مقبوضہ بیت المقدس، 7/ ستمبر (آئی این ایس انڈیا)اسرائیل میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے ہفتے کی رات سے لے کر اتوار کی صبح تک وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف کئی ہفتوں سے جاری یہ احتجاج 11ویں ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور یہ احتجاج ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب اسرائیل کو ریکارڈ تعداد میں کورونا وائرس کے کیسز کا سامنا ہے۔مظاہرین کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جہاں اس کے نتیجے میں ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ان کا کہنا تھا کہ کرپشن مقدمات کا سامنا کرنے والے وزیر اعظم کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر انقلاب، یہاں سے نکل جاؤ کے نعرے درج تھے،جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اسرائیل کے جھنڈے بھی ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔اس کے علاوہ قریبی عمارت پر عبرانی زبان میں ایک نشان بنا کر وزیر اعظم کی جانب اشارہ کیا گیا تھا جس کا مطلب تھا کہ 'بس، تمہیں بہت برداشت کر لیا'۔یروشلم کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی عوام نے پلوں اور اہم شاہراہوں پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔اسرائیل کی حکومت کورونا وائرس کی پہلی لہر پر تو قابو پانے میں کامیاب رہی تھی لیکن وہ معیشت کو دوبارہ معمول پر بحال کرنے کے حوالے سے صحیح اقدامات نہ کر سکی جس کی وجہ سے اب انہیں وائرس کی ایک شدید لہر کا سامنا ہے۔اسرائیل میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حکومت روزانہ ی بنیاد پر بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد کو روکنے کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن پر غور کر رہی ہے۔اسرائیل میں اس وقت کورونا کے 26ہزار فعال کیسز موجود ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اکثر مظاہرے پرامن رہے البتہ بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے بعد پولیس نے ایک خاتون سمیت 13افراد کو گرفتار کیاگیاتھا، جبکہ ایک مقام پر مظاہرین نے رکاوٹ عبور کرنے کے بعد پولیس سے ہاتھا پائی کی جس کے نتیجے میں دو پولیس افسر زخمی ہوئے۔نیتن یاہو نے مظاہرین کو انتشار پھیلانے والے عناصر قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات کو مسترد کردیا لیکن ان پر دباؤ استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی عہدے پر براجمان وزیر اعظم پر کرپشن اور رشوت کے سنگین الزامات لگائے گئے ہوں، تاہم وہ اس کے باوجود بھی عہدے سے الگ نہیں ہو رہے ہیں۔